المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحيض— حیض کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ طَهَارَةِ بَدَنِ الْحَائِضِ باب: حائضہ کے بدن کی طہارت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدَنِيِّ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ : قَالَ : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ " . قِيلَ : مَنْ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَتْ : إِنِّي حَائِضٌ . فَقَالَ : " إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " .سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (ان سے) فرمایا: ”مجھے سجدہ گاہ (کھجور کے پتوں سے بنی چھوٹی چٹائی) پکڑا دو۔“ (راوی کہتے ہیں کہ) پوچھا گیا: یہ فرمانے والے کون تھے؟ تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ تھے۔ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے (حالتِ حیض کی بنا پر) عرض کیا: میں حیض سے ہوں۔ اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے اور اس کے شواہد صحیح مسلم میں موجود ہیں، اس سے یہ علمی نکتہ واضح ہوتا ہے کہ حائضہ عورت کا جسم یا اس کی چھوئی ہوئی اشیاء ناپاک نہیں ہوتیں اور حیض کی نجاست ایک حکمی نجاست ہے جو انسانی جسم یا ہاتھ کو نجس نہیں کرتی۔