❮
❯
حدیث نمبر: 198
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِآدَمَ : يَا آدَمُ ، مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ أَكَلْتَ مِنَ الشَّجَرَةِ الَّتِي نَهَيْتُكَ عَنْهَا ؟ قَالَ : فَاعْتَلَّ آدَمُ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ ، زَيَّنَتْهُ لِي حَوَّاءُ . قَالَ : فَإِنِّي عَاقَبْتُهَا بِأَنْ لَا تَحْمِلَهَا إِلَّا كُرْهًا ، وَلَا تَضَعَهَا إِلَّا كُرْهًا ، وَدَمَّيْتُهَا فِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّتَيْنِ . قَالَ : فَرَنَّتْ حَوَّاءُ عِنْدَ ذَلِكَ . فَقِيلَ لَهَا : عَلَيْكِ الرَّنَّةُ وَعَلَى بَنَاتِكِ " .
هَذَا مَوْقُوفٌ ، صَحِيحُ الْإِسْنَادِ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے دریافت فرمایا: ”اے آدم! تجھے اس بات پر کس چیز نے آمادہ کیا کہ تو نے اس درخت میں سے کھا لیا جس سے میں نے تجھے منع کیا تھا؟“ راوی کہتے ہیں کہ پھر آدم علیہ السلام نے عذر پیش کرتے ہوئے عرض کی: ”اے میرے رب! حوا نے اسے میرے لیے مزین و خوشنما بنا کر پیش کیا تھا۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”تو میں نے اسے یہ سزا دی ہے کہ اب وہ حمل نہیں اٹھائے گی مگر مشقت کے ساتھ، اور نہ ہی وضع حمل (بچے کی ولادت) کرے گی مگر تکلیف کے ساتھ، اور میں نے اس کے لیے ہر ماہ دو مرتبہ خون (حیض) جاری ہونا مقدر کر دیا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس (فیصلے) پر حضرت حوا چیخ مار کر رونے لگیں، تو ان سے کہا گیا: ”اب یہ رونا اور بین کرنا تجھ پر اور تیری بیٹیوں پر لازم رہے گا۔“
یہ روایت موقوف ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحيض / حدیث: 198
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا مَوْقُوفٌ ، صَحِيحُ الْإِسْنَادِ . »
«أخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 3457، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 198»