المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْخَيْلِ وَفَضْلِهَا والندب إِلَى الإحسان إِلَيْهَا وَفَضْلِ الْحَمْلِ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهُ باب: گھوڑوں کی فضیلت، ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور راہِ خدا میں ان پر سواری کرانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1988
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ الْجُبَيْرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عُبَيْدٍ الْجُبَيْرِيَّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا .ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں سے قیامت کے دن تک کے لیے خیر و بھلائی وابستہ کر دی گئی ہے، اور ان کے مالکان کی ان کی نگہداشت اور اخراجات کے سلسلے میں اللہ کی طرف سے مدد کی جاتی ہے۔“