المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْخَيْلِ وَفَضْلِهَا والندب إِلَى الإحسان إِلَيْهَا وَفَضْلِ الْحَمْلِ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهُ باب: گھوڑوں کی فضیلت، ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور راہِ خدا میں ان پر سواری کرانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1987
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْخَيْلِ شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .ترجمہ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو گھوڑوں کے بارے میں کچھ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”گھوڑوں کی پیشانیوں سے قیامت کے دن تک کے لیے خیر و بھلائی وابستہ کر دی گئی ہے۔“