المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرفق بالدواب باب: چوپایوں اور جانوروں کے ساتھ نرمی اور شفقت برتنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1981
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، ثَنَا رُوَيْمُ بْنُ يَزِيدَ الْقَارِيُّ ، ثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسٌ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا أَخْصَبَتِ الْأَرْضُ فَانْزِلُوا عَنْ ظَهْرِكُمْ ، فَأَعْطُوهُ حَقَّهُ مِنَ الْكَلَأِ ، وَإِذَا أَجْدَبَتِ الْأَرْضُ فَامْطُوا عَلَيْهَا بِنِقْيِهَا .
قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنِ اللَّيْثِ إِلَّا رُوَيْمُ بْنُ يَزِيدَ ، وَرُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُرْسَلًا .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمین (چرگاہیں) شاداب و سرسبز ہو تو اپنے جانوروں کی پیٹھ سے اتر آیا کرو اور انہیں گھاس (چرنے) کا ان کا حق دیا کرو، اور جب زمین قحط سالی و خشک ہو تو ان کی (بچی ہوئی) طاقت و رمق کے ساتھ (جلد منزل پر پہنچنے کے لیے) تیز چلا کرو“۔
(امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نہیں جانتے کہ اسے لیث سے رویم بن یزید کے علاوہ کسی اور نے روایت کیا ہو، اور یہ زہری سے مرسلاً بھی مروی ہے)۔