❮
❯
حدیث نمبر: 1978
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَرَّ بِقَوْمٍ قَدْ أَنَاخُوا بَعِيرًا فَحَمَّلُوهُ غِرَارَتَيْنِ ، ثُمَّ عَلَوْهُ بِأُخْرَى فَلَمْ يَسْتَطِعِ الْبَعِيرُ أَنْ يَنْهَضَ ، فَأَلْقَاهَا عَنْهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ أَنْهَضَهُ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنْ غَفَرَ اللهُ لَكُمْ مَا تَأْتُونَ إِلَى الْبَهَائِمِ لَيَغْفِرَنَّ عَظِيمًا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُوصِيكُمْ بِهَذِهِ الْعُجْمِ خَيْرًا ، أَنْ تُنْزِلُوا بِهَا مَنَازِلَهَا ، فَإِذَا أَصَابَتْكُمْ سَنَةٌ أَنْ تُنَحُّوا عَنْهَا نِقْيَهَا .
رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ مَرْفُوعًا : لَوْ غُفِرَ لَكُمْ مَا تَأْتُونَ إِلَى الْبَهَائِمِ لَغُفِرَ لَكُمْ كَثِيرًا .
ترجمہ

یحییٰ بن جابر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جنہوں نے ایک اونٹ کو بٹھا رکھا تھا اور اس پر (پہلے ہی) دو بڑی بوریاں (غِرارتین) لاد دی تھیں، پھر ان کے اوپر ایک اور بوری رکھ دی۔ وہ اونٹ (بوجھ کے مارے) اٹھنے کی طاقت نہ رکھتا تھا، تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے اس کے اوپر سے وہ (اضافی) بوری ہٹا کر پھینک دی اور پھر اونٹ کو اٹھایا۔
پھر سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے (ان لوگوں سے) فرمایا: ”اگر اللہ تعالی نے تمہاری ان حرکتوں کو معاف کر دیا جو تم ان بے زبان جانوروں کے ساتھ کرتے ہو، تو سمجھو اس نے تمہارے بہت بڑے گناہوں کو بخش دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’بے شک اللہ تعالی تمہیں ان بے زبان جانوروں کے ساتھ خیر خواہی اور حسنِ سلوک کی وصیت فرماتا ہے، (سفر میں) انہیں ان کی مناسب منزلوں پر اتارا کرو (آرام دیا کرو)، اور اگر قحط سالی کا زمانہ ہو تو ان کے اندر کی رمق/طاقت بچاتے ہوئے ان کی دیکھ بھال کرو‘“۔

(اسے امام احمد نے ایک اور سند سے ابو ادریس الخولانی عن ابی الدرداء مرفوعاً بھی روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم جانوروں کے ساتھ جو (سختی) کرتے ہو وہ معاف کر دی جائے، تو تمہارے بہت سے گناہ بخش دیے جائیں گے“)۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 1978
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناد الحارث رجاله كلهم ثقات، مسلسل بالشاميين والقضاة، ثلاثة منهم من حمص وتولوا القضاء فيها. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 28131»