المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الجهاد باب: جہاد کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَمَنْ رَابَطَ أَوْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَتَّى يَرْجِعَ سَبْعُمِائَةِ أَلْفِ أَلْفِ حَسَنَةٍ ، وَمَحْوُ سَبْعِمِائَةِ أَلْفِ أَلْفِ سَيِّئَةٍ ، وَرَفْعُ سَبْعِمِائَةِ أَلْفِ أَلْفِ دَرَجَةٍ ، وَكَانَ فِي ضَمَانِ اللهِ تَعَالَى ، فَإِنْ تَوَفَّاهُ بِأَيِّ حَتْفٍ كَانَ ، أُدْخِلَ الْجَنَّةَ ، وَإِنْ رَجَعَهُ رَجَعَهُ مَغْفُورًا لَهُ مُسْتَجَابًا لَهُ .
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک خطبہ ارشاد فرمایا، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی جس میں یہ فرمانِ نبوی بھی تھا: ”جس کسی نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں سرحدوں کی پہرے داری کی یا جہاد کیا، اسے (گھر سے نکلنے سے لے کر) واپسی تک ہر قدم کے بدلے ستر کروڑ نیکیاں عطا ہوں گی، اس کے ستر کروڑ گناہ مٹا دیے جائیں گے اور ستر کروڑ ہی درجات بلند کیے جائیں گے۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ کے ذمہِ کرم اور اس کی ضمانت میں ہوگا؛ اگر اللہ اسے کسی بھی قسم کی موت سے وفات دے دے تو اسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا، اور اگر وہ (اپنے گھر) واپس آئے تو گناہوں سے پاک ہو کر اور مستجاب الدعوات بن کر لوٹے گا۔“
ائمہِ فن کے نزدیک یہ ایک موضوع یعنی من گھڑت روایت ہے۔