❮
❯
حدیث نمبر: 1941
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ فَيْضٌ مِنَ النَّاسِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَعْدَ أَنْبِيَائِهِ وَأَصْفِيَائِهِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ دَعْوَةُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَى مَتْنِ فَرَسِهِ آخِذًا بِعِنَانِهِ . قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : امْرُؤٌ بِنَاحِيَةٍ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ ، وَتَرَكَ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ .
ترجمہ

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھا اور وہاں لوگوں کا ایک اژدہام موجود تھا، اتنے میں ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! انبیاء اور اللہ کے برگزیدہ بندوں کے بعد قیامت کے دن اللہ عزوجل کے ہاں مرتبے کے لحاظ سے سب سے بہتر انسان کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ مجاہد جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ (جہاد میں) مصروف رہے یہاں تک کہ اسے اللہ عزوجل کا بلاوا (موت) آ جائے اور وہ اس حال میں ہو کہ اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر سوار اس کی لگام تھامے ہوئے ہو۔“ اس شخص نے عرض کی: پھر اس کے بعد کون؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جو کسی گوشہِ تنہائی میں اپنے رب کی بہترین عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجهاد / حدیث: 1941
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«أخرجه مسند الطيالسي برقم: 36، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 19829»