المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الشهداء باب: شہداء کا بیان۔
حدیث نمبر: 1918
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ بُلَيْدَانَ مِنْ آلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتِ : الطَّعِينُ وَالْمَجْبُوبُ وَالنُّفَسَاءُ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ .
فَقَالَ لَهُ أَبِي : أَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَدَّثَتْكَ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : هَكَذَا حَدَّثَتْنِي ، وَهَكَذَا حَفِظْتُ .ترجمہ
سیدنا قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”طاعون کا شکار ہونے والا، (مجبوب یعنی) وہ شخص جس کے اعضاء کاٹ دیے گئے ہوں، زچگی کی حالت میں فوت ہونے والی خاتون اور پیٹ کی بیماری میں انتقال کرنے والا، یہ سب شہادت کے درجے پر فائز ہیں۔“
راوی موسیٰ بن بلیدان کہتے ہیں کہ میرے والد نے (سیدنا قاسم سے) دریافت کیا کہ کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے واسطے سے سنائی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، انہوں نے مجھ سے اسی طرح بیان کی اور میں نے اسے بالکل اسی طرح (مرفوعاً) یاد رکھا ہے۔