المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجهاد— جہاد کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الشهداء باب: شہداء کا بیان۔
حدیث نمبر: 1917
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ ، فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَخْزُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَكُلٌّ فِيهِ شُهَدَاءُ .
قُلْتُ : الْمَشْهُورُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ زِيَادٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کی ہلاکت و بربادی نیزہ بازی (لڑائی) اور طاعون کے سبب ہوگی۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نیزہ بازی کو تو ہم نے جان لیا کہ یہ کیا ہے، لیکن یہ طاعون کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہارے جناتی دشمنوں کی جانب سے کچوکا لگانا (اذیت دینا) ہے اور ان دونوں صورتوں میں موت پانے والے لوگ شہید ہیں۔“
میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ زیاد کے واسطے سے ایک نامعلوم شخص سے منقول یہ سند سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے زیادہ معروف ہے۔