المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الغسل— غسل کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَاءِ مِنَ الْمَاءِ باب: منی خارج ہونے سے غسل واجب ہونے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، ثَنَا طَلْحَةُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا حَبَسَكَ ؟ " . قَالَ : كُنْتُ حِينَ أَتَانِي رَسُولُكَ عَلَى الْمَرْأَةِ ، فَقُمْتُ فَاغْتَسَلْتُ ، فَقَالَ : " وَمَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَغْتَسِلَ مَا لَمْ تُنْزِلْ " قَالَ : فَكَانَ الْأَنْصَارُ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ .
أَبُو سَعْدٍ هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْبَقَّالُ ، ضَعِيفٌ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ انصار کے ایک شخص کی طرف بلاوے کا پیغام بھیجا، تو انہوں نے حاضر ہونے میں کچھ تاخیر کر دی، (جب وہ پہنچے تو) آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے روک لیا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جس وقت آپ کا قاصد میرے پاس آیا، میں اپنی اہلیہ کے ساتھ مصروفِ صحبت تھا، پھر میں اٹھا اور غسل کیا (جس کی وجہ سے دیر ہوئی)، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تمہیں انزال نہیں ہوا تو تم پر غسل کرنا لازم نہیں تھا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پھر ایک عرصے تک انصار اسی بات پر عمل کرتے رہے۔
ابو سعد سے مراد سعید بن مرزبان بقال ہے اور وہ ضعیف راوی ہے۔