❮
❯
حدیث نمبر: 1894
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَقِيتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْمَوْسِمِ ، فَنَادَيْتُ مِنْ وَرَاءِ الْفُسْطَاطِ : أَلَا إِنِّي فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ الْجَرْمِيُّ ، وَإِنَّ ابْنَ أُخْتٍ لَنَا لَهُ أَخٌ عَانٍ فِي بَنِي فُلَانٍ ، وَقَدْ عَرَضْنَا عَلَيْهِ فَرِيضَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى ، فَرَفَعَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَانِبَ الْفُسْطَاطِ ، فَقَالَ : أَتَعْرِفُ صَاحِبَكَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : هُوَ ذَا ، انْطَلِقَا بِهِ حَتَّى نَفْعَلَ لَكُمَا قَضِيَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهَا كَانَتْ أَرْبَعًا مِنَ الْإِبِلِ .
ترجمہ

سیدنا کلیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حج کے موقع پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے خیمے کے عقب سے پکار کر کہا: آگاہ رہیے! میں فلاں بن فلاں جرمی ہوں، اور ہمارے ایک بھانجے کا بھائی بنو فلاں کے ہاں قیدی ہے، ہم نے ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کا مقرر کردہ فریضہ (خون بہا یا فدیہ) پیش کیا ہے مگر انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خیمے کا ایک گوشہ اٹھایا اور دریافت فرمایا: ”کیا تم اپنے اس فریقِ مخالف کو پہچانتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ نے فرمایا: ”یہ رہا وہ شخص، تم دونوں اسے لے جاؤ یہاں تک کہ ہم تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ صادر کر دیں“۔
راوی کا بیان ہے کہ ہم آپس میں یہ تذکرہ کیا کرتے تھے کہ وہ فدیہ چار اونٹوں پر مشتمل تھا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب القصاص / حدیث: 1894
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث حسّنه الحافظ ابن حجر في المطالب العالية (1/ 73/ أ)، وسيأتي برقم (2082). »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10777، 10778، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 270»