المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القصاص— قصاص کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الديات باب: دیتوں (یعنی قتل یا جانی نقصان کے بدلے واجب الادا مالی معاوضوں) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1893
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا ، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ أَعْوَرَ فُقِئَتْ عَيْنُهُ الصَّحِيحَةُ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ : قَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهَا بِالدِّيَةِ . فَقَالَ : إِيَّاكَ أَسْأَلُ . قَالَ : تَسْأَلُنِي ، وَهَذَا يُخْبِرُكَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَضَى بِذَلِكَ . ؟ترجمہ
سیدنا ابو مجلز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کانے شخص کے بارے میں دریافت کیا جس کی دوسری سلامت آنکھ بھی پھوڑ دی گئی ہو، تو سیدنا عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے (ابن عمر کی موجودگی میں) جواب دیا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس صورت میں مکمل دیت کا فیصلہ صادر فرمایا تھا۔ اس پر سائل نے (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) کہا کہ میں تو آپ سے سوال کر رہا ہوں، تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تم مجھ سے پوچھ رہے ہو حالانکہ یہ تمہیں بتا رہے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں یہ فیصلہ فرمایا تھا؟