❮
❯
حدیث نمبر: 1891
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يُعَلِّمُ النَّاسَ السُّنَنَ ، فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَهُمْ أَنْ قَالَ : فِي التَّرْقُوَةِ جَمَلٌ ، وَفِي الضِّرْسِ جَمَلٌ ، وَفِي الضِّلَعِ جَمَلٌ .
1891 \ 2 - أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ أَسْلَمَ يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : فِي الضِّرْسِ جَمَلٌ ، وَفِي التَّرْقُوَةِ جَمَلٌ .
ترجمہ

سیدنا اسلم مولیٰ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس منبر پر جلوہ افروز ہو کر لوگوں کو دین کے احکامات اور سنتیں سکھاتے ہوئے سنا، پس آپ رضی اللہ عنہ نے جو علمی رہنمائی فرمائی ان میں یہ بھی تھا کہ آپ نے فرمایا: ”ہنسلی کی ہڈی (توڑنے) کے بدلے دیت میں ایک اونٹ ہے، داڑھ (توڑنے) کی صورت میں ایک اونٹ ہے اور پسلی (توڑنے) کے بدلے بھی ایک اونٹ دینا ہوگا۔“
امام سفیان بن عیینہ نے زید بن اسلم کے واسطے سے مسلم بن جندب سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اپنے والد اسلم سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”داڑھ کے بدلے ایک اونٹ واجب ہے اور ہنسلی کی ہڈی (کے نقصان) کی صورت میں بھی ایک اونٹ دیت دینا ہوگی۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب القصاص / حدیث: 1891
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث إسناده صحيح. »
«أخرجه موطأ مالك برقم: 3199، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 16431، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1891 / 2، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 17496، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 27503»