المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القصاص— قصاص کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ المثلة باب: لاشوں کے اعضاء کاٹنے اور ان کی شکل و صورت بگاڑنے یعنی مثلہ کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1890
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ : عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ . قُلْتُ : مَا عَرَفْتُ قَيْسَ بْنَ الْأَحْنَفِ مَنْ هُوَ ، وَالْمَعْرُوفُ الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ ، لَكِنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ لَمْ يُدْرِكْهُ .ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ ”مثلہ کرنے (یعنی کسی انسان یا جانور کے اعضاء کاٹ کر اس کی لاش کو مسخ کرنے) سے منع فرماتے تھے۔“
(شارح کہتے ہیں کہ) میں نہیں جان پایا کہ یہ قیس بن احنف کون ہے، کیونکہ معروف شخصیت تو احنف بن قیس ہیں، لیکن یزید بن ابی زیاد نے ان (احنف بن قیس) کا زمانہ نہیں پایا (یعنی ان سے ملاقات نہیں کی ہے)۔