المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القصاص— قصاص کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ القود فِي غَيْرِ النفس باب: انسانی جان کے علاوہ دیگر اعضا اور زخموں میں قصاص (بدلہ) لینے کے شرعی احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1887
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ثَنَا سَعِيدٌ ، ثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ فِي الَّذِي يُقْتَصُّ مِنْهُ ثُمَّ يَمُوتُ : قَتْلُهُ حَقٌّ ، لَا دِيَةَ .ترجمہ
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ امام سعید بن المسیب نے انہیں یہ روایت بیان کی کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس شخص کے متعلق، جس سے (زخم یا عضو کا شرعی) قصاص لیا گیا ہو اور پھر وہ (اسی کے نتیجے میں) فوت ہو جائے، یہ فیصلہ صادر فرماتے تھے کہ ”اس کا قتل برحق ہے اور اس کی کوئی دیت (خون بہا) نہیں ہے۔“