المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الستر باب: عیوب کی پردہ پوشی کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان۔
( 80 ) فيه حديث عمر رضي الله عنه في باب الأولياء في أوائل النكاح .کتاب النکاح کے ابتدائی ابواب میں سے «باب الأولياء» (سرپرستوں/اولیاء کے احکام) کے تحت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی گئی ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، ثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : فَجَرَتْ خَادِمٌ لِآلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا عَلِيُّ ، حُدَّهَا . قَالَ : فَتَرَكَهَا حَتَّى وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا ، ثُمَّ ضَرَبَهَا خَمْسِينَ ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : أَصَبْتَ .سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آلِ رسول ﷺ کی ایک خادمہ سے بدکاری کا فعل سرزد ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے علی! اس پر حد نافذ کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے اس وقت تک مہلت دی جب تک کہ اس نے وضع حمل نہ کر لیا (بچہ جن لیا)، پھر انہوں نے اسے پچاس کوڑے لگائے، اس کے بعد وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا تو آپ ﷺ نے (مستحسن قرار دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”تم نے بالکل درست کیا ہے۔“