المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ كيفية الإقرار بالزنا ومراجعة الوالي للمقر وترك المقر إِذَا رجع والترهيب مِنْ الزِّنَا وَفِيهِ ذِكْرِ وَلَدٌ الزِّنَا باب: زنا کے اقرار کا طریقہ، حاکم کا اقرار کرنے والے سے مراجعت، اقرار سے رجوع پر اسے چھوڑ دینے، زنا سے ڈرانے اور ولد الزنا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1853
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ الْأَعْمَى ، عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفِتْيَانِ قُرَيْشٍ : لَا تَزْنُوا فَإِنَّهُ مَنْ سَلَّمَ اللهُ تَعَالَى لَهُ شَبَابَهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ . أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ بِهَذَا اللَّفْظِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ .ترجمہ
امام طیالسی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہمیں طلحہ الاعمی نے ایک شخص (جس کا انہوں نے نام لیا تھا) کے واسطے سے خبر دی کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کے نوجوانوں سے ارشاد فرمایا: ”تم بدکاری (زنا) کے مرتکب نہ ہونا، کیونکہ جس شخص کی جوانی کو اللہ تعالیٰ نے (گناہوں سے) محفوظ و سلامت رکھا وہ جنت میں داخل ہوگیا“۔
اس حدیث کو امام بزار نے بھی جریری کے واسطے سے ابونضرہ سے اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور امام بزار فرماتے ہیں کہ ہم ان الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔