المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ كيفية الإقرار بالزنا ومراجعة الوالي للمقر وترك المقر إِذَا رجع والترهيب مِنْ الزِّنَا وَفِيهِ ذِكْرِ وَلَدٌ الزِّنَا باب: زنا کے اقرار کا طریقہ، حاکم کا اقرار کرنے والے سے مراجعت، اقرار سے رجوع پر اسے چھوڑ دینے، زنا سے ڈرانے اور ولد الزنا کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ ، عَنْ حَبَّةَ بْنِ جُوَيْنٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً أَتَتْهُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي زَنَيْتُ . فَقَالَ : لَعَلَّكِ أُتِيتِ وَأَنْتِ نَائِمَةٌ فِي فِرَاشِكِ ، أَوْ أُكْرِهْتِ ؟ قَالَتْ : أُتِيتُ طَائِعَةً غَيْرَ مُكْرَهَةٍ . قَالَ : لَعَلَّكِ غُصِبْتِ عَلَى نَفْسِكِ ؟ قَالَتْ : مَا غَضِبْتُ ، فَحَبَسَهَا ، فَلَمَّا وَلَدَتْ وَشَبَّ ابْنُهَا جَلَدَهَا .سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت ان کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اعترافِ جرم کرتے ہوئے عرض کیا کہ میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے (اسے حد سے بچانے کی گنجائش تلاش کرتے ہوئے) دریافت فرمایا: ”شاید تمہارے ساتھ یہ معاملہ اس وقت پیش آیا ہو جب تم اپنے بستر پر گہری نیند سو رہی تھی، یا تم پر اس فعل کے لیے جبر کیا گیا ہو؟“ اس نے جواب دیا کہ میں نے یہ کام اپنی مرضی سے کیا ہے اور مجھ پر کوئی زبردستی نہیں کی گئی، آپ رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا: ”شاید تمہارے نفس پر کوئی زبردستی (دست درازی) کی گئی ہو؟“ اس نے کہا کہ مجھ پر کوئی جبر نہیں ہوا، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے (بچے کی ولادت تک) روک لیا اور جب اس نے بچے کو جنم دے دیا اور بچہ کچھ بڑا ہو گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے کوڑے لگوائے۔
اس روایت سے یہ علمی نکتہ واضح ہوتا ہے کہ حدود کے معاملات میں شبہات کی بنیاد پر حد کو ٹالنے کی کوشش کرنا مستحب ہے، جیسا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو مختلف اعذار پیش کر کے موقع دینا چاہا، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ حاملہ عورت پر وضعِ حمل اور بچے کی ابتدائی پرورش مکمل ہونے تک حد کو مؤخر کیا جائے گا۔