المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ الأوعية باب: برتنوں کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، وَسَمِعْتُهُ حِينَ أَمَرَ بِشُرْبِ نَبِيذِ الْجَرِّ .سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ”مٹی کے سبز گھڑوں (جر) میں تیار کردہ نبیذ پینے سے منع فرماتے ہوئے سنا“، اور پھر میں نے آپ ﷺ کو اس وقت بھی سنا ”جب آپ ﷺ نے ان مٹی کے گھڑوں کی نبیذ پینے کی اجازت (حکم) عطا فرمائی“۔
ائمہ و شارحینِ حدیث کے نزدیک یہ روایت حکم کی تبدیلی یعنی نسخ کی طرف اشارہ کرتی ہے؛ اسلام کے ابتدائی دور میں مٹی کے ان مخصوص برتنوں کی ممانعت اس لیے تھی کیونکہ ان میں مشروب بہت جلد نشہ آور ہو جاتا تھا، مگر بعد ازاں جب شراب کی حرمت کے احکام لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو گئے تو برتنوں کی تخصیص ختم کر دی گئی اور اصل ممانعت صرف نشہ آور ہونے کے ساتھ مشروط کر دی گئی۔