المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ كُلِّ مسكر حرام وتفسير الطلاء والخليط باب: ہر نشہ آور چیز کی حرمت اور طلاء و خلیط کی تشریح کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَرْيَمَ بِنْتِ طَارِقٍ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي حُجْرَتِهَا فِي نِسَاءٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَجَعَلْنَ يَسْأَلْنَهَا عَنِ الظُّرُوفِ ، فَقَالَتْ : يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّكُنَّ لَتَسْأَلْنَ عَنْ ظُرُوفٍ مَا كَانَ كَثِيرٌ مِنْهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا أَسْكَرَ إِحْدَاكُنَّ مِنَ الْأَشْرِبَةِ فَلْتَجْتَنِبْهُ ، وَإِنْ أَسْكَرَهَا مَاءُ حُبِّهَا فَلْتَجْتَنِبْهُ ، فَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ .امام مسدد رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ مریم بنت طارق رحمہا اللہ نے بیان کیا: میں انصار کی چند خواتین کے ہمراہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کے حجرہ مبارک میں حاضر ہوئی، تو وہ خواتین ان سے پینے کے برتنوں کے متعلق دریافت کرنے لگیں، جس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے مؤمنات! تم مجھ سے ایسے برتنوں کے بارے میں سوال کر رہی ہو جن میں سے اکثر رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں موجود ہی نہ تھے، لہٰذا مشروبات میں سے جو چیز بھی تمہیں نشہ دے اس سے مکمل اجتناب کرو، یہاں تک کہ اگر کسی کو اپنے مٹکے کے پانی سے بھی نشہ ہونے لگے تو وہ اسے بھی چھوڑ دے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“