المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ كُلِّ مسكر حرام وتفسير الطلاء والخليط باب: ہر نشہ آور چیز کی حرمت اور طلاء و خلیط کی تشریح کا بیان۔
حدیث نمبر: 1825
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللهِ يَحْلِفُ أَنَّ الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ، وَأَمَرَ أَنْ تُكْسَرَ دِنَانُهُ وَأَنْ تُكْفَى - هُوَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ .ترجمہ
امام احمد بن منیع رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن ابی الہذیل سے روایت کیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس بات پر قسم کھایا کرتے تھے کہ ”بے شک وہ چیز جس سے رسول اللہ ﷺ نے شراب کی حرمت نازل ہونے کے وقت منع فرمایا تھا اور حکم دیا تھا کہ اس کے مٹکے توڑ دیے جائیں اور ان کا مواد بہا دیا جائے، وہ کھجور اور منقہ (سے تیار شدہ نشہ آور مشروب) تھا“۔