المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ كُلِّ مسكر حرام وتفسير الطلاء والخليط باب: ہر نشہ آور چیز کی حرمت اور طلاء و خلیط کی تشریح کا بیان۔
حدیث نمبر: 1823
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شَرِبَ شَرَابًا حَتَّى يَذْهَبَ عَقْلُهُ فَقَدْ أَتَى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْكَبَائِرِ .
قُلْتُ : أَخْرَجَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَنْ جَمَعَ بَيْنَ صَلَاتَيْنِ بِغَيْرِ عُذْرٍ التِّرْمِذِيُّ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کوئی ایسی نشہ آور چیز پی جس سے اس کی عقل زائل ہو گئی تو یقیناً اس نے کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک (بڑے) دروازے پر آنے کی جسارت کی (یعنی ایک سنگین کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا)۔“
شارح فرماتے ہیں کہ امام ترمذی نے اسی مذکورہ سند کے ساتھ وہ حدیث بھی روایت کی ہے جس میں بغیر کسی معقول عذر کے دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کی ممانعت کا ذکر ہے۔