المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ كُلِّ مسكر حرام وتفسير الطلاء والخليط باب: ہر نشہ آور چیز کی حرمت اور طلاء و خلیط کی تشریح کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِي ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، عَنِ ابْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالشَّامِ ، فَقَالَ أَهْلُ الذِّمَّةِ : إِنَّكَ كَلَّفْتَنَا أَوْ فَرَضْتَ عَلَيْنَا أَنْ نَرْزُقَ الْمُسْلِمِينَ الْعَسَلَ وَلَا نَجِدُهُ ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ الْمُسْلِمِينَ إِذَا دَخَلُوا أَرْضًا فَلَمْ يُوَطَّنُوا فِيهَا اشْتَدَّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَشْرَبُوا الْمَاءَ الْقُرَاحَ ، فَلَا بُدَّ لَهُمْ مِمَّا يُصْلِحُهُمْ .
فَقَالُوا : إِنَّ عِنْدَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْعِنَبِ شَيْئًا يُشْبِهُ الْعَسَلَ ، قَالَ : فَأْتُوا بِهِ . فَأَتَوْا بِهِ ، فَجَعَلَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْفَعُهُ بِأُصْبُعِهِ فَيَمُدُّهُ كَهَيْئَةِ الْعَسَلِ ، فَقَالَ : كَأَنَّ هَذَا طِلَاءُ الْإِبِلِ . فَدَعَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ ، ثُمَّ خَفَضَ ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَشَرِبَ أَصْحَابُهُ . وَقَالَ : مَا أَطْيَبَ هَذَا فَارْزُقُوا الْمُسْلِمِينَ مِنْهُ .
فَرَزَقُوهُمْ مِنْهُ ، فَلَبِثَ مَا شَاءَ اللهُ ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا خَدِرَ مِنْهُ ، فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ فَضَرَبُوهُ بِنِعَالِهِمْ ، وَقَالُوا : سَكْرَانُ . فَقَالَ الرَّجُلُ : لَا تَقْتُلُونِي ، فَوَاللهِ مَا شَرِبْتُ إِلَّا الَّذِي رَزَقَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ . فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ لَسْتُ أُحِلُّ حَلَالًا وَلَا أُحَرِّمُ حَرَامًا ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَرُفِعَ الْوَحْيُ . فَأَخَذَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِثَوْبِهِ ، فَقَالَ : إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى اللهِ تَعَالَى مِنْ هَذَا أَنْ أُحِلَّ لَكُمْ حَرَامًا ، فَاتْرُكُوهُ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَدْخُلَ النَّاسُ فِيهِ دُخُولًا ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، فَدَعُوهُ ثُمَّ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَصْنَعُهُ ، ثُمَّ كَانَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَشْرَبُ الْحُلْوَ .سیدنا سفیان بن وہب الخولانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ملکِ شام میں امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا، تو وہاں کے غیر مسلم رعایا (ذمیوں) نے عرض کیا کہ آپ نے ہم پر مسلمانوں کے لیے شہد فراہم کرنے کی جو ذمہ داری ڈالی ہے وہ ہمیں میسر نہیں ہے، جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب مسلمان کسی نئی سرزمین میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں ابھی مستقل سکونت اختیار نہیں کی ہوتی تو ان کے لیے سادہ پانی پینا گراں گزرتا ہے، لہٰذا ان کے لیے ایسی چیز ناگزیر ہے جو ان کی صحت و خوراک کی اصلاح کر سکے۔
تب ذمیوں نے کہا کہ ہمارے پاس انگوروں سے تیار کردہ ایک مشروب ہے جو شہد سے مشابہت رکھتا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے لے کر آؤ“، جب وہ لایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی انگلی سے اٹھا کر دیکھا تو وہ شہد کی طرح تار چھوڑ رہا تھا، آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ یہ تو اونٹوں کے جسم پر ملے جانے والے لیپ کی طرح گاڑھا ہے، پھر آپ نے پانی منگوا کر اس میں شامل کیا اور اسے رقیق کر کے خود بھی پیا اور آپ کے ساتھیوں نے بھی نوش کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”یہ کتنا عمدہ ہے! مسلمانوں کو یہی مہیا کیا کرو“۔
چنانچہ وہ مشروب فراہم کیا جانے لگا اور ایک عرصہ تک یہی صورتحال رہی، پھر ایک شخص کو اس سے نشہ ہو گیا تو مسلمانوں نے اٹھ کر اسے جوتوں سے مارا اور کہا کہ یہ تو نشے میں دھت ہے، اس شخص نے دہائی دی کہ مجھے نہ مارو، اللہ کی قسم! میں نے وہی پیا ہے جو ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فراہم کیا تھا، جب یہ معاملہ سامنے آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان خطاب کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! میں محض ایک انسان ہوں، میں نہ کسی حلال کو حرام کر سکتا ہوں اور نہ کسی حرام کو حلال، بے شک رسول اللہ ﷺ وفات پا چکے ہیں اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے“، پھر آپ نے اپنے کرتے کا پلو پکڑ کر فرمایا: «إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى اللهِ تَعَالَى» ”میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس بات سے اعلانِ براءت کرتا ہوں“ کہ میں تمہارے لیے کسی حرام کو حلال قرار دوں، پس تم اس مشروب کو چھوڑ دو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اس کی عادت میں مبتلا ہو جائیں گے، اور میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے“، لہٰذا اسے ترک کر دو؛ اس کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے (خاص احتیاط سے) تیار کرواتے تھے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ صرف میٹھا مشروب نوش فرماتے تھے۔