المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ تَحْرِيمِ دَمِ المسلم وعرضه باب: مسلمان کے خون اور عزت و آبرو کی حرمت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، ثَنَا أَبِي ، ثَنَا طَالِبُ بْنُ سَلْمَى ، حَدَّثَنِيهِ بَعْضُ أَهْلِي أَنَّ جَدِّي حَدَّثَهُ " أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ فِي خُطْبَتِهِ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ فِي هَذَا الْيَوْمِ ، أَلَا فَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ تَرْجِعُونَ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ . قَالَ : لَا أَدْرِي هَلْ أَلْقَاكُمْ هَا هُنَا أَبَدًا بَعْدَ الْيَوْمِ ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ . هَلْ بَلَّغْتُ . ؟طالب بن سلمیٰ اپنے خاندان کے ایک فرد کے واسطے سے اپنے دادا (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آگاہ رہو! بیشک تمہارے اموال اور تمہارے خون ایک دوسرے پر اسی طرح حرام (اور واجب الاحترام) ہیں جس طرح تمہارے اس شہر کی اس دن میں حرمت ہے، خبردار! ایسا ہرگز نہ ہو کہ تم میرے بعد پھر سے کفر کی طرف پلٹ جاؤ کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو، سنو! جو یہاں حاضر ہے وہ اس شخص تک یہ بات پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں ہے“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ کیا آج کے بعد اس مقام پر میں کبھی تم سے مل پاؤں گا، «اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ» اے اللہ! ان پر گواہ رہنا، (پھر صحابہ سے پوچھا) کیا میں نے (دین) پہنچا دیا ہے؟“