❮
❯
حدیث نمبر: 1791
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، ثَنَا أَبِي ، ثَنَا طَالِبُ بْنُ سَلْمَى ، حَدَّثَنِيهِ بَعْضُ أَهْلِي أَنَّ جَدِّي حَدَّثَهُ " أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ فِي خُطْبَتِهِ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ فِي هَذَا الْيَوْمِ ، أَلَا فَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ تَرْجِعُونَ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ . قَالَ : لَا أَدْرِي هَلْ أَلْقَاكُمْ هَا هُنَا أَبَدًا بَعْدَ الْيَوْمِ ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ . هَلْ بَلَّغْتُ . ؟
ترجمہ

طالب بن سلمیٰ اپنے خاندان کے ایک فرد کے واسطے سے اپنے دادا (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آگاہ رہو! بیشک تمہارے اموال اور تمہارے خون ایک دوسرے پر اسی طرح حرام (اور واجب الاحترام) ہیں جس طرح تمہارے اس شہر کی اس دن میں حرمت ہے، خبردار! ایسا ہرگز نہ ہو کہ تم میرے بعد پھر سے کفر کی طرف پلٹ جاؤ کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو، سنو! جو یہاں حاضر ہے وہ اس شخص تک یہ بات پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں ہے“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ کیا آج کے بعد اس مقام پر میں کبھی تم سے مل پاؤں گا، «اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ» اے اللہ! ان پر گواہ رہنا، (پھر صحابہ سے پوچھا) کیا میں نے (دین) پہنچا دیا ہے؟“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحدود / حدیث: 1791
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 67، 1654، 4144، 5230، 6667، 7009، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 1679، وأخرجه سنن النسائي برقم: 4130، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 233، وأخرجه مسند أحمد برقم: 19985، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 1916، وأخرجه فتح الباري برقم: 3025، 4141، 4385، 6819، 6972، 7009، وأخرجه مسند البزار برقم: 3615، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 2952، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 60، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 967، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 401، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 303، 2620، 2902»