المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحدود— شرعی حدود کے احکام کا بیان۔
بَابُ تَحْرِيمِ دَمِ المسلم وعرضه باب: مسلمان کے خون اور عزت و آبرو کی حرمت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَبَلَةَ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " فَقُلْنَا : يَوْمُ النَّحْرِ . قَالَ : " أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : ذُو الْحِجَّةِ ، شَهْرٌ حَرَامٌ . قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ قُلْنَا : بَلَدٌ حَرَامٌ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ! أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ .
( 77 ) وَكَذَا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: ”آج یہ کون سا دن ہے؟“ ہم نے عرض کیا: یہ قربانی کا دن (یومِ النحر) ہے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم نے عرض کیا: ذوالحجہ ہے جو کہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم نے عرض کیا: یہ حرمت والا شہر ہے۔ تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام اور محترم ہیں جس طرح تمہارے اس شہر اور اس مہینے میں تمہارے آج کے اس دن کی حرمت ہے! خبردار! جو یہاں موجود ہے وہ یہ پیغام اس تک پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں ہے“۔
اسی طرح کی روایت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔