المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النذر باب: نذر (منت) کے احکام و مسائل کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا ، فَقَالَ : " إِنْ أَتَانِي مِنْهُمْ خَبَرٌ صَالِحٌ لَأَحْمَدَنَّ اللهَ تَعَالَى حَقَّ حَمْدِهِ " . فَلَمَّا أَتَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ خَبَرٌ صَالِحٌ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ شُكْرًا ، وَلَكَ الْمَنُّ فَضْلًا " .
فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّكَ قُلْتَ : " إِنْ أَتَانِي مِنْهُمْ خَبَرٌ صَالِحٌ لَأَحْمَدَنَّ اللهَ حَقَّ حَمْدِهِ " ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْتُ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ شُكْرًا ، وَلَكَ الْمَنُّ فَضْلًا ".سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ”اگر میرے پاس ان کی طرف سے کوئی خیر کی خبر آئی تو میں اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد بیان کروں گا جو اس کی حمد و ثنا کا حق ادا کر دے۔“ پھر جب آپ ﷺ کے پاس لشکر کی جانب سے فتح و نصرت کی خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے ان الفاظ میں باری تعالیٰ کی حمد بیان کی: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ شُكْرًا، وَلَكَ الْمَنُّ فَضْلًا» ”اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں بطورِ شکر، اور تیرا ہی احسان ہے بطورِ فضل و کرم۔“
اس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو یہ فرمایا تھا کہ ”اگر میرے پاس ان کی طرف سے کوئی اچھی خبر آئی تو میں اللہ کی ایسی حمد بیان کروں گا جو اس کی حمد کا حق ہو؟“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے (انہی جامع کلمات میں وہ حق ادا کرتے ہوئے) کہا ہے کہ «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ شُكْرًا، وَلَكَ الْمَنُّ فَضْلًا» اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں بطورِ شکر، اور تیرا ہی احسان ہے بطورِ فضل و کرم۔“