المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرضاع باب: رضاعت یعنی دودھ پلانے کے احکام و مسائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسًا يَقُولُ : قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : " لَا تُحَرِّمُ الْعَيْفَةُ ، قُلْنَا : وَمَا الْعَيْفَةُ ؟ قَالَ : الْمَرْأَةُ تَلِدُ فَيُحْصَرُ لَبَنُهَا فِي ثَدْيِهَا ، فَتَرْضَعُهَا جَارِيَتُهَا الْمَرَّةَ وَالْمَرَّتَيْنِ ".سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا: ”’عائفہ‘ (کی رضاعت) حرمتِ نکاح ثابت نہیں کرتی۔“ ہم نے دریافت کیا کہ عائفہ سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے وضاحت فرمائی: ”(عائفہ یہ ہے کہ) جب کوئی عورت بچے کو جنم دے اور دودھ اس کے پستانوں میں رُک کر اسے بوجھل کر دے، پھر اس کی خادمہ یا کوئی بچی ایک یا دو مرتبہ (اس تکلیف کو دور کرنے کی غرض سے) اسے چوس لے (تو اس سے رضاعی رشتہ قائم نہیں ہوتا)۔“
اس اثر سے یہ علمی نکتہ واضح ہوتا ہے کہ محض دودھ چوس لینے سے حرمتِ رضاعت اس وقت تک ثابت نہیں ہوتی جب تک کہ وہ شرعی طور پر مقررہ مقدار اور رضاعت کی مخصوص عمر کے دائرے میں نہ ہو۔