المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرضاع باب: رضاعت یعنی دودھ پلانے کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1754
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ هُوَ ابْنُ السَّرِيِّ ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقُرَشِيُّ السَّهْمِيُّ ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدٍ أَوْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُسْتَرْضَعَ الْحَمْقَاءُ ، وَقَالَ : " إِنَّ اللَّبَنَ يُشَبَّهُ ".ترجمہ
سیدنا زید بن اسماعیل یا زیاد بن اسماعیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کسی احمق اور کم عقل عورت سے دودھ پلوایا جائے، اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک دودھ (مرضعہ کی) مشابہت پیدا کر دیتا ہے“
ائمہ و شارحین کے نزدیک اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ دودھ کے ذریعے دودھ پلانے والی عورت کے مخفی اوصاف، اخلاق اور طبائع بچے میں منتقل ہو سکتے ہیں، لہٰذا بچے کی صحیح فکری و جسمانی نشوونما کے لیے نیک سیرت اور صاحبِ عقل خاتون کا انتخاب کرنا چاہیے۔