المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ المتعة باب: نکاحِ متعہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1724
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، ثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَنَزَلْنَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ ، فَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَصَابِيحَ وَنِسَاءً يَبْكِينَ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " ، فَقِيلَ : نِسَاءٌ تُمُتِّعَ بِهِنَّ فَهُنَّ يَبْكِينَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَرَامٌ . أَوْ قَالَ : " هَدَمَ الْمُتْعَةَ النِّكَاحُ ، وَالطَّلَاقُ ، وَالْعِدَّةُ ، وَالْمِيرَاثُ ".ترجمہ
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے، جب ہم ثنیۃ الوداع کے مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ نے وہاں روشن چراغ دیکھے اور عورتوں کے رونے کی آوازیں سنیں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ ”یہ کیا معاملہ ہے؟“ عرض کیا گیا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جن سے متعہ کیا گیا تھا اور اب وہ (جدائی پر) رو رہی ہیں، تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ اب حرام ہے“ یا فرمایا: ”نکاح، طلاق، عدت اور وراثت (کے احکامات) نے نکاحِ متعہ کے جواز کو ختم کر دیا ہے۔“