المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ المتعة باب: نکاحِ متعہ کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، كَانَتْ إِذَا سُئِلَتْ عَنِ الْمُتْعَةِ ، قَالَتْ : " بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللهِ تَعَالَى " ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ ... الْآيَةَ ، قَالَتْ : " فَمَنِ ابْتَغَى غَيْرَ مَا زَوَّجَهُ اللهُ تَعَالَى ، أَوْ مَا مَلَّكَهُ - فَقَدْ عَدَا ".ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب نکاحِ متعہ کے متعلق دریافت کیا جاتا تو وہ فرماتیں: ”میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب فیصلہ کن ہے“، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ﴾ (سورۃ المؤمنون: 5-6) یعنی ”اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے یا ان (لونڈیوں) کے جو ان کی ملکیت میں ہیں، تو بیشک وہ ملامت زدہ نہیں ہیں“، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”پس جس کسی نے اس کے علاوہ کسی اور ذریعے کی جستجو کی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے نکاح کے ذریعے حلال کیا ہے یا جو اس کی ملکیت میں دیا ہے، تو بلاشبہ ایسے ہی لوگ (شرعی حدود سے) تجاوز کرنے والے ہیں“۔