المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ التلاعب بالطلاق والحض عَلَى الطلاق بما يوافق السُّنَّةُ لِمَنْ أراده باب: طلاق سے کھیلنے کی ممانعت اور ارادۂ طلاق کی صورت میں سنت کے مطابق طلاق دینے کی ترغیب کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ الدَّالَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، قَالَ : بَلَغَ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَيْهِمْ ، فَأَتَاهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " يَقُولُ أَحَدُكُمْ : قَدْ تَزَوَّجْتُ ، قَدْ طَلَّقْتُ ، وَلَيْسَ كَذَا عِدَّةُ الْمُسْلِمِينَ ، طَلِّقِ الْمَرْأَةَ فِي قُبُلِ عِدَّتِهَا ".
1694 \ 2 - وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَقُولُ : قَدْ طَلَّقْتُكِ ، قَدْ رَاجَعْتُكِ .
فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَا بَالُ رِجَالٍ يَلْعَبُونَ بِحُدُودِ اللهِ تَعَالَى ! " .سیدنا حمید بن عبد الرحمن حمیری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ نبی کریم ﷺ کسی معاملے میں لوگوں سے ناراض ہوئے ہیں، چنانچہ وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص (غیر سنجیدگی سے) یوں کہہ دیتا ہے کہ میں نے نکاح کر لیا، میں نے طلاق دے دی، حالانکہ مسلمانوں کی عدت کا شرعی طریقہ کار یہ نہیں ہے، عورت کو اس کی عدت کے استقبال میں (یعنی ایسے طہر میں جس میں ہم بستری نہ کی ہو) طلاق دیا کرو۔“
امام طیالسی کی روایت میں سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص بار بار یہ کہتا تھا کہ میں نے تمہیں طلاق دے دی، میں نے تم سے رجوع کر لیا، جب یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے ساتھ کھیل تماشہ کرتے ہیں!“