المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ المحلل باب: حلالہ کرنے والے شخص کا بیان۔
حدیث نمبر: 1693
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ شَرِيكٍ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ يُحَلِّلُهَا ، قَالَ : " هُمَا زَانِيَانِ ، وَإِنْ مَكَثَا عَشْرَ سِنِينَ ، أَوْ عِشْرِينَ سَنَةً ، إِذَا أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا لِذَلِكَ ".ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق مروی ہے جو کسی عورت سے اس غرض سے نکاح کرتا ہے کہ وہ اسے (اپنے سابقہ شوہر کے لیے) حلال کر دے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”وہ دونوں زناکار ہیں، خواہ وہ دس سال تک ساتھ رہیں یا بیس سال تک، کیونکہ اس نے اس عورت سے نکاح محض اسی مقصد کے لیے کیا ہے“۔