المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التحريض عَلَى نكاح ذات الدين وغبطة مِنْ لَهُ زوجة مؤمنة باب: دین دار عورت سے نکاح کی ترغیب اور مومنہ بیوی والے شخص کی خوش نصیبی کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي مَهْدِيٍّ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " ثَلَاثٌ قَاصِمَاتُ الظَّهْرِ : فَقْرٌ دَاخِلٌ لَا يَجِدُ صَاحِبُهُ مُتَلَذَّذًا ، وَزَوْجَةٌ يَأْمَنُهَا صَاحِبُهَا وَتَخُونُهُ ، وَإِمَامٌ أَسْخَطَ اللهَ تَعَالَى وَأَرْضَى النَّاسَ . وَإِنَّ بِرَّ الْمُؤْمِنَةِ كَمَثَلِ سَبْعِينَ صِدِّيقَةٍ ، وَإِنَّ فُجُورَ الْفَاجِرَةِ كَفُجُورِ أَلْفِ فَاجِرَةٍ " .
[2] تَابَعَهُ أَبُو الْيَمَانِ ، عَنْ أَبِي مَهْدِيٍّ : سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ . أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ کلمات ارشاد فرمایا کرتے تھے: ”تین چیزیں کمر توڑ دینے والی ہیں: ایسی کسمپرسی اور شدید غربت جس میں انسان کو کوئی سامانِ راحت میسر نہ ہو، وہ بیوی جس پر اس کا شوہر مکمل اعتماد کرے مگر وہ اس کے ساتھ خیانت کرے، اور ایسا حکمران جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کر کے لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرے۔ نیز یقیناً ایک نیکوکار مومنہ عورت کی نیکی ستر صدیقہ عورتوں کے اجر کے برابر ہے اور ایک بدکار عورت کا گناہ ہزار بدکار عورتوں کے گناہ کے برابر ہے“۔
اس حدیث کی متابعت ابو الیمان نے ابو مہدی یعنی سعید بن سنان سے کی ہے اور اسے امام بزار نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔