المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تزويج الأبكار باب: کنواری لڑکیوں کے نکاح سے متعلق باب۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَعَرَّسْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ ، ثُمَّ غَدَوْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَسْأَلُ رَجُلًا رَجُلًا : " أَتَزَوَّجْتَ يَا فُلَانُ ؟ أَتَزَوَّجْتَ يَا فُلَانُ ؟ " ، ثُمَّ قَالَ : " تَزَوَّجْتَ يَا كَعْبُ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبِكْرًا ، أَمْ ثَيِّبًا ؟ " ، قُلْتُ : ثَيِّبًا . قَالَ : " فَهَلَّا بِكْرًا تَعَضُّهَا وَتَعَضُّكَ . ؟ "
1597 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ دِهْقَانٍ ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا فُلَانُ ، أَتَزَوَّجْتَ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : فَقَالَ لِي : " تَزَوَّجْتَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ " ... فَذَكَرَهُ .
1597 \ 3 - قَالَ : وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَبَلَةَ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ ... فَذَكَرَهُ ، لَكِنْ لَيْسَ فِيهِ : عَنْ أَبِيهِ .سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سفر کے دوران نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھا، ہم نے رات کے ایک پہر پڑاؤ کیا اور پھر صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ ہر شخص سے فرداً فرداً دریافت فرمانے لگے: ”اے فلاں! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ اے فلاں! کیا تم نے نکاح کر لیا ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”اے کعب! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم نے کسی کنواری سے نکاح کیا ہے یا ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) سے؟“ میں نے عرض کیا: ثیبہ سے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے کسی کنواری سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس سے پیار و محبت کی کھیلیاں کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی (لطف اندوز ہوتے)؟“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند کے ساتھ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی شخص سے دریافت فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کنواری سے یا ثیبہ سے؟“ پھر انہوں نے مکمل قصہ ذکر کیا، نیز عبد الرحمن بن جبلہ کی روایت میں بھی یہی واقعہ مذکور ہے مگر اس کی سند میں 'اپنے والد سے' کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔