المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ليس للنساء فِي النكاح أَمْرِ باب: نکاح کے معاملے میں عورتوں کو مستقل اختیار نہ ہونے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ : إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوَّجَتِ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنَ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : تُزَوِّجِينَ بِنْتَ رَجُلٍ بِغَيْرِ أَمْرِهِ ؟ فَغَضِبَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَقَالَتْ لِلْمُنْذِرِ : " لِتُمَلِّكْهَا أَمْرَهَا ؟ فَفَعَلَ ، فَلَمْ يَرَوْهُ شَيْئًا ".قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (اپنے بھائی) عبدالرحمٰن کی صاحبزادی کا نکاح منذر بن زبیر سے کر دیا، تو عبدالرحمٰن نے (اظہارِ ناراضی کرتے ہوئے) کہا: کیا آپ ایک شخص کی بیٹی کا نکاح اس کی اجازت و مشورے کے بغیر کر دیتی ہیں؟ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جلال میں آ گئیں اور انہوں نے منذر سے فرمایا: ”کیا تم اسے اس کے معاملے کا خود مالک و مختار بناتے ہو (کہ وہ اپنا فیصلہ خود کر سکے)؟“ چنانچہ منذر نے ایسا ہی کر دیا، پھر اہل علم نے اس (والد کے اعتراض) کو کوئی اہمیت نہ دی اور نکاح کو برقرار رکھا۔
اس واقعے سے یہ فقہی نکتہ مستنبط ہوتا ہے کہ اگر کسی وجہ سے ولیِ اقرب کی غیر موجودگی میں نکاح ہو جائے اور بعد ازاں شوہر عورت کو اختیار دے دے لیکن وہ نکاح پر قائم رہے، تو وہ نکاح شرعاً نافذ و معتبر رہتا ہے۔