❮
❯
حدیث نمبر: 1581
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ ، ثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ ، وَاسْمُهُ الَّذِي يُعْرَفُ بِهِ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ صَالِحًا ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اخْطُبْ عَلَيَّ ابْنَةَ صَالِحٍ ! فَقَالَ : لَهُ يَتَامَى ، وَلَمْ يَكُنْ لِيُؤْثِرَنَا عَلَيْهِمْ .
فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللهِ إِلَى عَمِّهِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، لِيَخْطُبَ عَلَيْهِ ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى صَالِحٍ ، فَقَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ يَخْطُبُ ابْنَتَكَ ، فَقَالَ : لِي يَتَامَى ، وَلَمْ أَكُنْ لِأُتْرِبَ لَحْمِي وَأَرْفَعَ لَحْمَكُمْ ! إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَنْكَحْتُهَا فُلَانًا .
وَكَانَ هَوَى أُمِّهَا إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَطَبَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ابْنَتِي ، فَأَنْكَحَهَا أَبُوهَا يَتِيمًا فِي حِجْرِهِ وَلَمْ يُؤَامِرْهَا ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ : " أَنْكَحْتَ ابْنَتَكَ ، وَلَمْ تُؤَامِرْهَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشِيرُوا عَلَى النِّسَاءِ فِي أَنْفُسِهِنَّ " ، مَرَّتَيْنِ . فَقَالَ صَالِحٌ : إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِمَا يُصْدِقُهَا ابْنُ عُمَرَ ، فَإِنَّ لَهَا مِنْ مَالِي مِثْلَ مَا أَعْطَاهَا .
1581 \ 2 - تَابَعَهُ عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، عَنِ اللَّيْثِ . أَخْرَجَهُ ابْنُ السَّكَنِ فِي الصَّحَابَةِ مِنْ طَرِيقِهِ .
* وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ ، إِبْرَاهِيمُ لَمْ يُدْرِكِ السَّمَاعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيُقَالُ : إِنَّهُ وُلِدَ عَلَى عَهْدِهِ.
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”میرے لیے سیدنا صالح رضی اللہ عنہ (جن کا معروف نام سیدنا نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ ہے اور رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام صالح رکھا تھا) کی صاحبزادی کا پیغامِ نکاح دیجیے!“ تو انہوں نے فرمایا کہ ”ان کے پاس یتیم بچے ہیں اور وہ ہمیں ان پر ترجیح نہیں دیں گے۔“ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے چچا سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تاکہ وہ ان کی طرف سے رشتہ مانگیں، چنانچہ وہ انہیں لے کر سیدنا صالح رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور عرض کی کہ ”عبداللہ بن عمر نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ کی صاحبزادی کا رشتہ مانگتے ہیں۔“ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”میرے پاس یتیم (رشتہ دار) ہیں، اور میں ایسا نہیں کروں گا کہ اپنے جگر گوشوں کو محتاجی میں چھوڑ کر تم جیسے متمول لوگوں کی شان بڑھاؤں! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کا نکاح فلاں سے کر دیا ہے۔“ جبکہ لڑکی کی والدہ کی خواہش سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف تھی، چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ ”یا رسول اللہ ﷺ! عبداللہ بن عمر نے میری بیٹی کا رشتہ مانگا تھا لیکن اس کے والد نے اس کا نکاح اپنی زیرِ پرورش ایک یتیم سے کر دیا اور اس سے اس کی رائے بھی نہیں لی۔“ تب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا صالح رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور دریافت فرمایا: ”کیا تم نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے جبکہ تم نے اس سے مشورہ بھی نہیں لیا؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے دو مرتبہ ارشاد فرمایا: ”عورتوں کے معاملے میں ان سے مشورہ لیا کرو۔“ سیدنا صالح رضی اللہ عنہ نے (اپنی مالی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے) عرض کی کہ ”میں نے یہ سب اس لیے کیا تاکہ ابنِ عمر اسے جتنا مہر دیں گے، میں اسے اپنے مال میں سے اتنا ہی (بطورِ جہیز یا ہبہ) مزید دوں گا۔“ یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند صحیح ہے، ابراہیم کا نبی کریم ﷺ سے سماع ثابت نہیں ہے، البتہ یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی ولادت عہدِ نبوی میں ہوئی تھی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النكاح / حدیث: 1581
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ ، إِبْرَاهِيمُ لَمْ يُدْرِكِ السَّمَاعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيُقَالُ : إِنَّهُ وُلِدَ عَلَى عَهْدِهِ. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 5824، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 7353»