المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ القسم والترهيب مِنْ حبس حَقٌّ الْمَرْأَةِ باب: بیویوں کے درمیان باریوں کی تقسیم اور عورت کا حق روکنے پر سخت وعید و ڈراوے کا بیان۔
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : " مَنْ ظَلَمَ امْرَأَةً مَهْرَهَا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى زَانٍ ، وَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : عَبْدِي ، زَوَّجْتُكَ عَلَى عَهْدِي ، فَلَمْ تَعْرِفْ بِعَهْدِي ؟ فَيَتَوَلَّى اللهُ تَعَالَى طَلَبَ حَقِّهَا ، فَيَسْتَوْعِبُ حَسَنَاتِهِ كُلَّهَا ، فَمَا بَقِيَ مِنْهُ ، فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ .
وَمَنْ كَانَ لَهُ امْرَأَتَانِ فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا فِي الْقَسْمِ مِنْ نَفْسِهِ وَمَالِهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا ، مَائِلًا شِقُّهُ ، حَتَّى يَدْخُلَ النَّارَ ".سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک خطبہ دیا جس میں آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ اس کے مہر کے معاملے میں ظلم کیا، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں زانی قرار پائے گا، اور قیامت کے دن اللہ عزوجل اس سے فرمائے گا: اے میرے بندے! میں نے اپنے عہد و پیمان پر تیرا نکاح کیا تھا، تو کیا تو نے میرے عہد کی پاسداری نہ کی؟ پھر اللہ تعالیٰ خود اس عورت کے حق کا مطالبہ فرمائے گا اور اس شخص کی تمام نیکیاں لے لے گا، اور جب کچھ بھی نیکی باقی نہ رہے گی تو اسے جہنم میں لے جانے کا حکم دے دیا جائے گا، اور جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان اپنی ذات (باری کی تقسیم) اور مال کے خرچ میں عدل و انصاف نہ کرے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوگا اور اس کا ایک پہلو لٹکا ہوا ہوگا، یہاں تک کہ وہ آگ میں داخل ہوجائے گا“۔