المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الصداق وَالتَّرْغِيبِ فِيهِ باب: مہر کے احکام اور اس کی ادائیگی کی رغبت دلانے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْمُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : رَكِبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمِنْبَرَ مِنْبَرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَا أَعْرِفَنَّ مَا زَادَ الصَّدَاقُ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ نَزَلَ .
فَاعْتَرَضَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَتْ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، نَهَيْتَ النَّاسَ أَنْ يَزِيدُوا فِي صَدَقَاتِهِنَّ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : أَمَا سَمِعْتَ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ فِي الْقُرْآنِ : وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا ... الْآيَةَ ؟ فَقَالَ : اللَّهُمَّ غَفْرًا ، كُلُّ النَّاسِ أَفْقَهُ مِنْ عُمَرَ .
ثُمَّ رَجَعَ ، فَرَكِبَ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تَزِيدُوا فِي صَدَقَاتِهِنَّ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ ، فَمَنْ شَاءَ أَنْ يُعْطِيَ مِنْ مَالِهِ مَا أَحَبَّ ، أَوْ فَمَنْ طَابَتْ نَفْسُهُ فَلْيَفْعَلْ .سیدنا مسروق سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”میں ہرگز یہ نہ پاؤں کہ کسی نے حقِ مہر چار سو درہم سے زیادہ مقرر کیا ہو“، پھر آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے تو قریش کی ایک خاتون نے آپ کو ٹوکا اور عرض کی: اے امیر المؤمنین! کیا آپ نے لوگوں کو عورتوں کے مہر چار سو درہم سے زیادہ مقرر کرنے سے منع کر دیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس خاتون نے کہا: کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان قرآنِ کریم میں نہیں سنا: ﴿وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا﴾ (اور تم ان میں سے کسی ایک کو مال کا ڈھیر دے چکے ہو)؟ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ غَفْرًا» ”اے اللہ! میں تجھ سے مغفرت کا طلب گار ہوں“، پھر فرمایا: ”ہر شخص عمر سے زیادہ دین کی سمجھ رکھتا ہے“، اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ دوبارہ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں کے مہر چار سو درہم سے زیادہ مقرر کرنے سے منع کیا تھا، اب جو شخص اپنے مال سے جتنا چاہے دینا پسند کرے، یا جس کا جی چاہے (کہ مہر زیادہ رکھے) تو وہ ایسا کر سکتا ہے“۔