المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوصايا— وصیتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ميراث ذوي الرحم إِذَا لَمْ تكن عصبة باب: ذوی الارحام کی میراث کا بیان، جب (میت کا کوئی) عصبہ موجود نہ ہو۔
حدیث نمبر: 1551
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ سَأَلَ عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الدَّحْدَاحِ : " هَلْ تَعْلَمُونَ لَهُ نَسَبًا فِيكُمْ ؟ " قَالُوا : لَا ، إِنَّمَا هُوَ أَتِيٌّ فِينَا ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيرَاثِهِ لِابْنِ أُخْتِهِ .ترجمہ
سیدنا واسع بن حبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ تک مرفوعاً بیان کیا کہ آپ ﷺ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے سیدنا ثابت بن دحداح رضی اللہ عنہ کے متعلق دریافت فرمایا: ”کیا تم لوگ اپنے درمیان ان کا کوئی نسب (رشتہ دار) جانتے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: نہیں، وہ تو ہمارے ہاں محض ایک نووارد (پردیسی) کی حیثیت سے آئے تھے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی میراث ان کے بھانجے کے حق میں دینے کا فیصلہ فرما دیا۔