المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوصايا— وصیتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
باب (أحاديث 1528Q–1531) باب: (احادیث 1528Q تا 1531)
حدیث نمبر: 1530
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي يَوْمِ فَتْحِ مَكَّةَ : لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلَا تَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا .ترجمہ
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن ایک منادی (اعلان کرنے والے) کو بھیجا جس نے یہ منادی کی کہ ”کسی وارث کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں، بچہ صاحبِ فراش (جس کے نکاح میں عورت ہو) کا ہے، اور کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (اپنے مال سے بھی) کوئی عطیہ دینا جائز نہیں ہے“، یہ روایت مرسل ہے کیونکہ امام مجاہد رحمہ اللہ تابعی ہیں اور انہوں نے اسے براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا ہے۔