المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ باب: اونٹ کا دودھ پینے سے وضو کرنے کا بیان۔
وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الثَّرِيدَ وَيَشْرَبُ اللَّبَنَ ، وَيُصَلِّي ، وَلَا يَتَوَضَّأُ " .سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول ﷺ ثرید (گوشت کے شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی) تناول فرماتے اور دودھ نوش فرماتے تھے، پھر آپ ﷺ (نیا) وضو کیے بغیر ہی نماز ادا فرما لیتے تھے۔“
اس حدیث سے فقہی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی اشیاء یا دودھ کے استعمال سے وضو باطل نہیں ہوتا، اور آپ ﷺ کا یہ عمل امت کے لیے جواز اور سہولت کی تعلیم پر مبنی ہے؛ سند کے اعتبار سے یہ روایت مختلف کتبِ حدیث میں موجود ہے اور اس کے ایک راوی عبد الاعلیٰ بن عامر ثعلبی اگرچہ صدوق ہیں تاہم ان کے حافظے کے متعلق محدثین نے کلام کیا ہے، لیکن دیگر شواہد کی بنا پر آگ پر پکی چیز سے وضو نہ ٹوٹنے کا اصل حکم ثابت و مستحکم ہے۔