المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العتق— غلاموں کو آزاد کرنے کے احکام کا بیان۔
باب (أحاديث 1511–1527) باب: (احادیث 1511 تا 1527)
حدیث نمبر: 1527
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِنَا ، عَنْ رَجُلٍ ، أَنَّ مَوْلَاةً لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَتْهُ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَاهَا جَارِيَةً ، وَأَنَّ تِلْكَ الْجَارِيَةَ وَلَدَتْ مِنْ زِنَا ، وَأَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ وَلَدَهَا ، فَاسْتَأْمَرَتْ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَأَنْ تَصَدَّقِي بِصَدَقَةٍ خَيْرٌ لَكِ مِنْ أَنْ تُعْتِقِيهَا ، وَلَكِنِ اسْتَخْدِمِيهَا .
قُلْتُ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا الرَّجُلَ الْمُبْهَمَ ، وَشَيْخُهُ كَذَلِكَ .ترجمہ
سیدہ (نامعلوم) رضی اللہ عنہا، جو کہ نبی کریم ﷺ کی آزاد کردہ خادمہ تھیں، سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک لونڈی عطا فرمائی تھی، اس لونڈی کے ہاں زنا کے نتیجے میں ایک بچہ پیدا ہوا، تو انہوں نے اس کی اولاد کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا اور اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے حکم دریافت کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا صدقہ کرنا اسے آزاد کرنے سے تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، البتہ تم اس سے خدمت لیتی رہو۔“ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں سوائے اس ایک مبہم شخص کے، اور ان کے استاد کا معاملہ بھی اسی طرح مبہم ہے۔