المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الوقف باب: وقف کے شرعی احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1507
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مَنْ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ شَيْئًا فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى ، أَيَصْرِفُهُ إِلَى غَيْرِهِ ؟ قَالَ : أَفْضِهِ حَيْثُ جَعَلَهُ صَاحِبُهُ . قَالَ : مَا وَاللهِ ، مَا سَبِيلُ اللهِ أَنْ يَضْرِبَ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ .ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جس نے کوئی شے اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دی ہو، تو کیا وہ اسے کسی اور مصرف میں استعمال کر سکتا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے اسی جگہ خرچ کرو جہاں اس کے مالک نے اسے متعین کیا تھا۔“ نیز آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خدا کی قسم! اللہ کی راہ (سبیل اللہ) یہ نہیں ہے کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“