المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ عَلَامَةِ البلوغ الَّذِي يَقَعُ بِهِ التكليف باب: اس علامتِ بلوغ کا بیان جس سے شرعی احکام لازم ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1502
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا ، فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ ، يَقُولُ : كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ، وَأَنَا غُلَامٌ ، فَشَكُّوا فِيَّ فَلَمْ يَجِدُونِي جَرَتْ عَلَيَّ الْمُوسَى ، فَاسْتُبْقِيتُ .
( 56 ) وَسَيَأْتِي - إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى - فِي حَدِّ السَّرِقَةِ ذِكْرُ مَنِ اعْتَبَرَهُ بِسِتَّةِ أَشْبَارٍ .ترجمہ
امام مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجدِ کوفہ میں ایک شخص کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ”جس روز سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے متعلق فیصلہ صادر فرمایا تو میں اس وقت لڑکپن کی عمر میں تھا، پس لوگوں نے میرے بالغ ہونے کے متعلق شک کیا مگر جب انہوں نے دیکھا کہ ابھی مجھ پر استرا نہیں چلا (یعنی علاماتِ بلوغت ظاہر نہیں ہوئیں) تو مجھے قتل کرنے کے بجائے زندہ رہنے دیا گیا۔“ اور چوری کی حد کے باب میں ان شاء اللہ تعالیٰ ان اہل علم کا ذکر آئے گا جنہوں نے چھ بالشت قد کو بلوغت کا معیار قرار دیا ہے۔