❮
❯
حدیث نمبر: 1502
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا ، فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ ، يَقُولُ : كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ، وَأَنَا غُلَامٌ ، فَشَكُّوا فِيَّ فَلَمْ يَجِدُونِي جَرَتْ عَلَيَّ الْمُوسَى ، فَاسْتُبْقِيتُ .
( 56 ) وَسَيَأْتِي - إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى - فِي حَدِّ السَّرِقَةِ ذِكْرُ مَنِ اعْتَبَرَهُ بِسِتَّةِ أَشْبَارٍ .
ترجمہ

امام مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجدِ کوفہ میں ایک شخص کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ”جس روز سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے متعلق فیصلہ صادر فرمایا تو میں اس وقت لڑکپن کی عمر میں تھا، پس لوگوں نے میرے بالغ ہونے کے متعلق شک کیا مگر جب انہوں نے دیکھا کہ ابھی مجھ پر استرا نہیں چلا (یعنی علاماتِ بلوغت ظاہر نہیں ہوئیں) تو مجھے قتل کرنے کے بجائے زندہ رہنے دیا گیا۔“ اور چوری کی حد کے باب میں ان شاء اللہ تعالیٰ ان اہل علم کا ذکر آئے گا جنہوں نے چھ بالشت قد کو بلوغت کا معیار قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1502
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 2584، وأخرجه سنن النسائي برقم: 3429 / 1، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 5593، وأخرجه سنن سعيد بن منصور برقم: 2966، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 11438، وأخرجه مسند أحمد برقم: 19307، وأخرجه مسند الحميدي برقم: 913، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 5138، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 439»