المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اللقطة باب: گری پڑی یا گمشدہ ملی ہوئی چیز (لقطہ) کے شرعی احکام و مسائل کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنِي أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو فَرْوَةَ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيُّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ : وَلَقِيتُهُ وَكَلَّمْتُهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، الْوَرِقُ يُوجَدُ عِنْدَ الْقَرْيَةِ الْعَامِرَةِ أَوِ الطَّرِيقِ الْمَأْتِيِّ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : عَرِّفْهَا حَوْلًا ، فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ ، وَإِلَّا فَاحْفَظْ وِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا ، ثُمَّ اسْتَمْتِعْ بِهَا ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فِي الْوَرِقِ يُوجَدُ فِي الْأَرْضِ الْعَادِيَّةِ ؟ قَالَ : فِيهَا وَالرِّكَازِ الْخُمُسُ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، الشَّاةُ تُوجَدُ بِأَرْضِ فَلَاةٍ ؟ قَالَ : كُلْهَا ، فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، الْبَعِيرُ أَوِ النَّاقَةُ تُوجَدُ فِي أَرْضِ الْفَلَاةِ ، عَلَيْهَا الْوِعَاءُ وَالسِّقَاءُ ؟ فَقَالَ : دَعْهَا ، مَا لَكَ وَلَهَا ؟ .سیدنا ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ا، عروہ کہتے ہیں کہ میں ان (ابو ثعلبہ) سے ملا اور ان سے گفتگو کی، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس چاندی (نقدی) کے بارے میں کیا حکم ہے جو کسی آباد بستی یا عام گزرگاہ پر پائی جائے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، پھر اگر اس کا تلاش کرنے والا آ جائے تو اسے اس کے حوالے کر دو، ورنہ اس کے برتن، اس کی بندش اور اس کی تعداد کو محفوظ کر لو، پھر اس سے فائدہ اٹھاؤ“، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس چاندی کے بارے میں کیا حکم ہے جو قدیم دورِ جاہلیت کی غیر آباد زمین میں ملے؟ آپ نے فرمایا: ”اس میں اور قدیم مدفون خزانے (رکاز) میں پانچواں حصہ (خمس) ہے“، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ بکری جو کسی بیابان زمین میں ملے اس کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسے کھا لو (پکڑ لو)، کیونکہ وہ یا تو تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا پھر وہ بھیڑیے کی غذا بنے گی“، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! وہ اونٹ یا اونٹنی جو صحرا میں ملے جبکہ اس کے پاس اپنا برتن اور پانی کا ذخیرہ موجود ہو (یعنی وہ اپنی بقا پر قادر ہو)؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، تمہیں اس سے کیا سروکار ہے؟“۔