المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الغصب باب: غصب (یعنی کسی کے مال پر زبردستی اور ناحق قبضہ کرنے) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1474
حَدَّثَنَا شَبَّابٌ ، ثَنَا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْحَارِثِ السُّلَمِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَنْ أَخَذَ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ شِبْرًا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ، قَالَ : وَغَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَ غَزَوَاتٍ ، آخِرُهُنَّ حُنَيْنٌ ، فَكُنْتُ أَسِيرُ فِي مُقَدِّمَةِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَلَأَتْ رَاحِلَتِي ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَضْرِبُهَا ، فَقَالَ : مَهْ ، وَزَجَرَهَا فَقَامَتْ .ترجمہ
حکم بن حارث سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے مسلمانوں کے راستے سے ایک بالشت کے برابر بھی زمین لی، وہ قیامت کے دن اسے اس حال میں لائے گا کہ وہ اسے ساتوں زمینوں تک سے اٹھائے ہوئے ہوگا“، (حکم بن حارث رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی جن میں آخری غزوہ حنین تھا، میں رسول اللہ ﷺ کے ہراول دستے میں چل رہا تھا کہ میری سواری تھک کر بیٹھ گئی، پھر رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اسے مار رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”رک جاؤ“ اور آپ ﷺ نے اسے ڈانٹا تو وہ فوراً کھڑی ہوگئی۔