المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الغصب باب: غصب (یعنی کسی کے مال پر زبردستی اور ناحق قبضہ کرنے) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1470
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذِرَاعُ أَرْضٍ يَسْرِقُهَا الرَّجُلَانِ وَالْجَارَانِ ، يَكُونُ بَيْنَهُمَا ، فَيَسْرِقُ أَحَدُهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ ، فَيُطَوَّقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ .ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک خیانت کی سب سے بڑی قسم زمین کا وہ ایک ہاتھ کے برابر ٹکڑا ہے جسے دو آدمی اور دو پڑوسی چوری کر لیں، جبکہ وہ زمین ان دونوں کے درمیان مشترک ہو اور پھر ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے سے چوری کر لے، تو اسے سات زمینوں تک کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔“