المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ القرض والترهيب مِنْ الاستدانة وَالتَّرْغِيبِ فِي الصبر عَلَى المعسر باب: قرض، قرض لینے سے ڈرانے اور تنگ دست مقروض کے ساتھ صبر کی ترغیب کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَا يُتْرَكُ مُفْرَحٌ فِي الْإِسْلَامِ أَوْ قَالَ : مُفْرَجٌ .
كَثِيرٌ ضَعِيفٌ ، وَالْمُرَادُ : لَا يُتْرَكُ ذُو دَيْنٍ إِلَّا قُضِيَ ، يُقَالُ : أَفْرَحَهُ الدَّيْنُ ، إِذَا أَثْقَلَهُ ، وَيُرْوَى بِالْجِيمِ أَيْضًا .اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسلام میں کسی بھی بوجھ تلے دبے ہوئے شخص کو (بے یار و مددگار) نہیں چھوڑا جائے گا“، یا آپ ﷺ نے (شک کے ساتھ) لفظ ”مُفْرَج“ (جیم کے ساتھ) ارشاد فرمایا۔ کثیر (نامی راوی) ضعیف ہے، اور اس کلام سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی مقروض شخص کو اس حال میں نہیں چھوڑا جائے گا کہ اس کا قرض ادا نہ کر دیا جائے، عربی زبان میں کہا جاتا ہے: «أَفْرَحَهُ الدَّيْنُ» جس کا ترجمہ ہے ”قرض نے اسے بوجھ تلے دبا دیا“، یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب قرض کسی شخص کو گراں بار کر دے، اور یہ لفظ جیم کے ساتھ یعنی ”مُفْرَج“ بھی روایت کیا گیا ہے۔