المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ آدَابِ البيع باب: خرید و فروخت کے آداب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1430
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ الْيَشْكُرِيِّ ، ثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - مَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَبِيعُ غُنَيْمَاتٍ لَهُ ، فَقَالَ : بِكَمْ تَبِيعُ غَنَمَكَ هَذِهِ ؟ قَالَ : بِكَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : أَخَذْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَبِيعَهَا ، فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يَقْضِي حَاجَتَهُ ، ثُمَّ مَرَّ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، خُذْهَا بِالَّذِي أَعْطَيْتَنِي ، فَقَالَ : حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ ، فَلَمْ أَكُنْ لِأُعِينَ الشَّيْطَانَ عَلَيْكَ أَنْ أُجِيبَكَ . صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”میں نے یہ بکریاں اتنے میں لے لیں۔“ تو اس شخص نے قسم کھا لی کہ وہ انہیں ہرگز نہیں بیچے گا، چنانچہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی کسی ضرورت سے تشریف لے گئے، پھر جب دوبارہ اس کے پاس سے گزرے تو اس شخص نے عرض کیا: ”اے ابو عبد الرحمن! آپ یہ بکریاں اسی قیمت پر لے لیں جو آپ نے مجھے پیش کی تھی،“ اس پر آپ نے فرمایا: ”تم نے ایک بات پر قسم کھا لی تھی، اور میں تمہاری بات مان کر تمہارے خلاف شیطان کی مدد کرنے والا نہیں ہوں (کہ تم اپنی قسم توڑ ڈالو)۔“ یہ روایت صحیح موقوف ہے۔